سب کی کہانی ایک طرف ہے میرا قصہ ایک طرف

Tahzeeb Hafi

سب کی کہانی ایک طرف ہے میرا قصہ ایک طرف

ایک طرف سیراب ہیں سارے اور میں پیاسا ایک طرف

ایک طرف تمہیں جلدی ہے اس کے دل میں گھر کرنے کی

ایک طرف وہ کر دیتا ہے رفتہ رفتہ ایک طرف

میری مرضی تھی میں ذرے چنتا یا لہریں چنتا

اس نے صحرا ایک طرف رکھا اور دریا ایک طرف

میں نے اب تک جتنے بھی لوگوں میں خود کو بانٹا ہے

بچپن سے رکھتا آیا ہوں تیرا حصہ ایک طرف

جب سے اس نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف

اس کا کمرا ایک طرف ہے باقی دنیا ایک طرف

یوں تو آج بھی تیرا دکھ دل دہلا دیتا ہے لیکن

تجھ سے جدا ہونے کے بعد کا پہلا ہفتہ ایک طرف