Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آب و ہوا ہے برسر پیکار کون ہےمیرے سوا یہ مجھ میں گرفتار کون ہےSaleem Kausar
  2. اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائےیا پھر ہمیں منزل کی بشارت دی جائےSaleem Kausar
  3. ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میںسمجھ رہی تھی کسی کام سے ملا ہوں میںSaleem Kausar
  4. ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گامری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہےSaleem Kausar
  5. اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیںجو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیںSaleem Kausar
  6. اس عالم حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتاکوئی نیند مثال نہیں بنتی کوئی لمحہ خواب نہیں ہوتاSaleem Kausar
  7. اک گھڑی وصل کی بے وصل ہوئی ہے مجھ میںکس کے آنے کی خبر قتل ہوئی ہے مجھ میںSaleem Kausar
  8. اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئےتازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہئےSaleem Kausar
  9. بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میںذرا سی دیر ہمیں ہو گئی تھی عجلت میںSaleem Kausar
  10. بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہےیہ کس نے آ کے گہری نیند سے مجھ کو جگایا ہےSaleem Kausar
  11. پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیںاب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیںSaleem Kausar
  12. تارے جو کبھی اشک فشانی سے نکلتےہم چاند اٹھائے ہوئے پانی سے نکلتےSaleem Kausar
  13. تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتاپر ترا ساتھ گوارا بھی نہیں ہو سکتاSaleem Kausar
  14. تم نے سچ بولنے کی جرأت کییہ بھی توہین ہے عدالت کیSaleem Kausar
  15. تو سورج ہے تیری طرف دیکھا نہیں جا سکتالیکن دیکھنے والوں کو روکا نہیں جا سکتاSaleem Kausar
  16. چراغ یاد کی لو ہم سفر کہاں تک ہےیہ روشنی مری دہلیز پر کہاں تک ہےSaleem Kausar
  17. چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سےدل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سےSaleem Kausar
  18. دست دعا کو کاسۂ سائل سمجھتے ہوتم دوست ہو تو کیوں نہیں مشکل سمجھتے ہوSaleem Kausar
  19. دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پردیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پرSaleem Kausar
  20. دل سیماب صفت پھر تجھے زحمت دوں گادور افتادہ زمینوں کی مسافت دوں گاSaleem Kausar
  21. ڈوبنے والے بھی تنہا تھے تنہا دیکھنے والے تھےجیسے اب کے چڑھے ہوئے تھے دریا دیکھنے والے تھےSaleem Kausar
  22. سراسر نفع تھا لیکن خسارہ جا رہا ہےتو کیا جیتی ہوئی بازی کو ہارا جا رہا ہےSaleem Kausar
  23. سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیامری زمیں کے سامنے اک آسمان آ گیاSaleem Kausar
  24. طلسم خانۂ اسباب میرے سامنے تھامرا ہی دیکھا ہوا خواب میرے سامنے تھاSaleem Kausar
  25. قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیںکتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیںSaleem Kausar
  26. کبھی ستارے کبھی کہکشاں بلاتا ہےہمیں وہ بزم میں اپنی کہاں بلاتا ہےSaleem Kausar
  27. کبھی موسم ساتھ نہیں دیتے کبھی بیل منڈیر نہیں چڑھتیلیکن یہاں وقت بدلنے میں ایسی کوئی دیر نہیں لگتیSaleem Kausar
  28. کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھےتم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھےSaleem Kausar
  29. کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگچشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگSaleem Kausar
  30. کوئی سچے خواب دکھاتا ہے پر جانے کون دکھاتا ہےمجھے ساری رات جگاتا ہے پر جانے کون جگاتا ہےSaleem Kausar
  31. کوئی یاد ہی رخت سفر ٹھہرے کوئی راہ گزر انجانی ہوجب تک مری عمر جوان رہے اور یہ تصویر پرانی ہوSaleem Kausar
  32. کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئےوہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئےSaleem Kausar
  33. کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتےتو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتےSaleem Kausar
  34. کیا بتائیں فصل بے خوابی یہاں بوتا ہے کونجب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر ہوتا ہے کونSaleem Kausar
  35. کیسے ہنگامۂ فرصت میں ملے ہیں تجھ سےہم بھرے شہر کی خلوت میں ملے ہیں تجھ سےSaleem Kausar
  36. لو کو چھونے کی ہوس میں ایک چہرہ جل گیاشمع کے اتنے قریب آیا کہ سایا جل گیاSaleem Kausar
  37. ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ رکھا ہے تم نےبدن کیا روح میں بھی رت جگا رکھا ہے تم نےSaleem Kausar
  38. ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بستم سچ ہو باقی جو ہے فسانہ ہے اور بسSaleem Kausar
  39. مہلت نہ ملی خواب کی تعبیر اٹھاتےہم مارے گئے ٹوٹے ہوئے تیر اٹھاتےSaleem Kausar
  40. میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرےمیرے کچھ کام نہیں آئے وسائل میرےSaleem Kausar
  41. میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےسر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہےSaleem Kausar
  42. نہ اس طرح کوئی آیا ہے اور نہ آتا ہےمگر وہ ہے کہ مسلسل دیئے جلاتا ہےSaleem Kausar
  43. نہ کوئی نام و نسب ہے نہ گوشوارہ مرابس اپنی آب و ہوا ہی پہ ہے گزارہ مراSaleem Kausar
  44. وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہواانہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہواSaleem Kausar
  45. وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کیاس کو سوچا ہی نہیں جس سے محبت نہیں کیSaleem Kausar
  46. وہ جو آئے تھے بہت منصب و جاگیر کے ساتھکیسے چپ چاپ کھڑے ہیں تری تصویر کے ساتھSaleem Kausar
  47. وہ جو ہم رہی کا غرور تھا وہ سواد راہ میں جل بجھاتو ہوا کے عشق میں گھل گیا میں زمیں کی چاہ میں جل بجھاSaleem Kausar
  48. یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہےدل میں یاد پھر آنکھوں میں مہتاب کہاں رکھنا ہےSaleem Kausar
  49. یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںوہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیںSaleem Kausar
  50. تم بھی مجھ سے سارے رشتے توڑ چکی تھیںمیں نے بھی اک دوسرا رستہ دیکھ لیا تھاSaleem Kausar