Poetry
- آب و ہوا ہے برسر پیکار کون ہےمیرے سوا یہ مجھ میں گرفتار کون ہےSaleem Kausar
- اب فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائےیا پھر ہمیں منزل کی بشارت دی جائےSaleem Kausar
- ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میںسمجھ رہی تھی کسی کام سے ملا ہوں میںSaleem Kausar
- ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گامری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہےSaleem Kausar
- اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیںجو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیںSaleem Kausar
- اس عالم حیرت و عبرت میں کچھ بھی تو سراب نہیں ہوتاکوئی نیند مثال نہیں بنتی کوئی لمحہ خواب نہیں ہوتاSaleem Kausar
- اک گھڑی وصل کی بے وصل ہوئی ہے مجھ میںکس کے آنے کی خبر قتل ہوئی ہے مجھ میںSaleem Kausar
- اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئےتازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہئےSaleem Kausar
- بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میںذرا سی دیر ہمیں ہو گئی تھی عجلت میںSaleem Kausar
- بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہےیہ کس نے آ کے گہری نیند سے مجھ کو جگایا ہےSaleem Kausar
- پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیںاب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیںSaleem Kausar
- تارے جو کبھی اشک فشانی سے نکلتےہم چاند اٹھائے ہوئے پانی سے نکلتےSaleem Kausar
- تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتاپر ترا ساتھ گوارا بھی نہیں ہو سکتاSaleem Kausar
- تم نے سچ بولنے کی جرأت کییہ بھی توہین ہے عدالت کیSaleem Kausar
- تو سورج ہے تیری طرف دیکھا نہیں جا سکتالیکن دیکھنے والوں کو روکا نہیں جا سکتاSaleem Kausar
- چراغ یاد کی لو ہم سفر کہاں تک ہےیہ روشنی مری دہلیز پر کہاں تک ہےSaleem Kausar
- چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سےدل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سےSaleem Kausar
- دست دعا کو کاسۂ سائل سمجھتے ہوتم دوست ہو تو کیوں نہیں مشکل سمجھتے ہوSaleem Kausar
- دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پردیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پرSaleem Kausar
- دل سیماب صفت پھر تجھے زحمت دوں گادور افتادہ زمینوں کی مسافت دوں گاSaleem Kausar
- ڈوبنے والے بھی تنہا تھے تنہا دیکھنے والے تھےجیسے اب کے چڑھے ہوئے تھے دریا دیکھنے والے تھےSaleem Kausar
- سراسر نفع تھا لیکن خسارہ جا رہا ہےتو کیا جیتی ہوئی بازی کو ہارا جا رہا ہےSaleem Kausar
- سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیامری زمیں کے سامنے اک آسمان آ گیاSaleem Kausar
- طلسم خانۂ اسباب میرے سامنے تھامرا ہی دیکھا ہوا خواب میرے سامنے تھاSaleem Kausar
- قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیںکتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیںSaleem Kausar
- کبھی ستارے کبھی کہکشاں بلاتا ہےہمیں وہ بزم میں اپنی کہاں بلاتا ہےSaleem Kausar
- کبھی موسم ساتھ نہیں دیتے کبھی بیل منڈیر نہیں چڑھتیلیکن یہاں وقت بدلنے میں ایسی کوئی دیر نہیں لگتیSaleem Kausar
- کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھےتم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھےSaleem Kausar
- کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگچشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگSaleem Kausar
- کوئی سچے خواب دکھاتا ہے پر جانے کون دکھاتا ہےمجھے ساری رات جگاتا ہے پر جانے کون جگاتا ہےSaleem Kausar
- کوئی یاد ہی رخت سفر ٹھہرے کوئی راہ گزر انجانی ہوجب تک مری عمر جوان رہے اور یہ تصویر پرانی ہوSaleem Kausar
- کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئےوہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئےSaleem Kausar
- کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتےتو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتےSaleem Kausar
- کیا بتائیں فصل بے خوابی یہاں بوتا ہے کونجب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر ہوتا ہے کونSaleem Kausar
- کیسے ہنگامۂ فرصت میں ملے ہیں تجھ سےہم بھرے شہر کی خلوت میں ملے ہیں تجھ سےSaleem Kausar
- لو کو چھونے کی ہوس میں ایک چہرہ جل گیاشمع کے اتنے قریب آیا کہ سایا جل گیاSaleem Kausar
- ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ رکھا ہے تم نےبدن کیا روح میں بھی رت جگا رکھا ہے تم نےSaleem Kausar
- ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بستم سچ ہو باقی جو ہے فسانہ ہے اور بسSaleem Kausar
- مہلت نہ ملی خواب کی تعبیر اٹھاتےہم مارے گئے ٹوٹے ہوئے تیر اٹھاتےSaleem Kausar
- میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرےمیرے کچھ کام نہیں آئے وسائل میرےSaleem Kausar
- میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےسر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہےSaleem Kausar
- نہ اس طرح کوئی آیا ہے اور نہ آتا ہےمگر وہ ہے کہ مسلسل دیئے جلاتا ہےSaleem Kausar
- نہ کوئی نام و نسب ہے نہ گوشوارہ مرابس اپنی آب و ہوا ہی پہ ہے گزارہ مراSaleem Kausar
- وہ آنکھیں جن سے ملاقات اک بہانہ ہواانہیں خبر ہی نہیں کون کب نشانہ ہواSaleem Kausar
- وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کیاس کو سوچا ہی نہیں جس سے محبت نہیں کیSaleem Kausar
- وہ جو آئے تھے بہت منصب و جاگیر کے ساتھکیسے چپ چاپ کھڑے ہیں تری تصویر کے ساتھSaleem Kausar
- وہ جو ہم رہی کا غرور تھا وہ سواد راہ میں جل بجھاتو ہوا کے عشق میں گھل گیا میں زمیں کی چاہ میں جل بجھاSaleem Kausar
- یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہےدل میں یاد پھر آنکھوں میں مہتاب کہاں رکھنا ہےSaleem Kausar
- یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںوہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیںSaleem Kausar
- تم بھی مجھ سے سارے رشتے توڑ چکی تھیںمیں نے بھی اک دوسرا رستہ دیکھ لیا تھاSaleem Kausar