طلسم خانۂ اسباب میرے سامنے تھا
Saleem Kausarطلسم خانۂ اسباب میرے سامنے تھا
مرا ہی دیکھا ہوا خواب میرے سامنے تھا
وہی نہیں تھا جسے دل تلک رسائی تھی
کہ یوں تو مجمع احباب میرے سامنے تھا
تمام عمر ستارے تلاش کرتا پھرا
پلٹ کے دیکھا تو مہتاب میرے سامنے تھا
میں اک صدا کے تحیر میں گھر گیا ورنہ
کنارا سامنے گرداب میرے سامنے تھا
کتاب عشق کھلی تھی سنا رہا تھا کوئی
میں پڑھ رہا تھا نیا باب میرے سامنے تھا
میں ڈھونڈتا رہا ماضی کے گم شدہ اوراق
نصاب منبر و محراب میرے سامنے تھا
ردائے فقر بچا لے گئی مجھے ورنہ
فریب اطلس و کم خواب میرے سامنے تھا