ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ رکھا ہے تم نے

Saleem Kausar

ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ رکھا ہے تم نے

بدن کیا روح میں بھی رت جگا رکھا ہے تم نے

کوئی آساں نہیں تھا زندگی سے کٹ کے جینا

بہت مشکل دنوں میں رابطہ رکھا ہے تم نے

ہم ایسے ملنے والوں کو کہاں اس کی خبر تھی

نہ ملنے کا بھی کوئی راستہ رکھا ہے تم نے

جنوں کی حالتوں کا ہم کو اندازہ نہیں تھا

دیے کہ شہ پہ سورج کو بجھا رکھا ہے تم نے

ہوا کو حبس کرنا ہو تو کوئی تم سے سیکھے

دریچے بند دروازہ کھلا رکھا ہے تم نے

اب ایسا ہے کہ دنیا سے الجھتے پھر رہے ہیں

عجب کیفتیوں میں مبتلا رکھا ہے تم نے

خزاں جیسے ہرے پیڑوں کو رسوا کر رہی ہے

سلوک ایسا ہی کچھ ہم سے روا رکھا ہے تم نے

رہائی کے لیے زنجیر پہنائی گئی تھی

اسیری کے لیے پہرا اٹھا رکھا ہے تم نے

بریدہ عکس لرزاں ہیں لہو کی وحشتوں میں

یہ کیسا آئینہ خانہ سجا رکھا ہے تم نے

جہاں کردار گونگے دیکھنے والے ہیں اندھے

اسی منظر سے تو پردہ ہٹا رکھا ہے تم نے

محبت کرنے والے اب کہاں جا کر ملیں گے

گزر گاہوں کو تو مقتل بنا رکھا ہے تم نے