سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیا

Saleem Kausar

سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیا

مری زمیں کے سامنے اک آسمان آ گیا

یہ فیصلہ ہوا مری شناخت آئینہ کرے

مگر یہ کس کا عکس ہے جو درمیان آ گیا

عجیب الجھنوں میں اب کے ساعتیں گزر گئیں

نصاب یاد بھی نہیں اور امتحان آ گیا

حصار سیل آب سے تو ناؤ بچ گئی مگر

ہوا کے ہاتھ ساحلوں پہ بادبان آ گیا

نگاہ اور راستے کے دکھ تو روشنی سے تھے

چراغ بجھ گئے تو میرا میہمان آ گیا

تری صدا پہ مجھ کو لوٹنا تھا جنگ چھوڑ کر

مگر وہ ایک تیر جو سر کمان آ گیا

میں بام و در سے پوچھ آؤں کوئی آیا تو نہیں

سلیمؔ رات ڈھل گئی مرا مکان آ گیا