کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے
Saleem Kausarکہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے
وہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے
دیے کی لو سے چھلکتا ہے اس کے حسن کا عکس
سنگار کرتے ہوئے آئینہ سجاتے ہوئے
اب اس جگہ سے کئی راستے نکلتے ہیں
میں گم ہوا تھا جہاں راستہ بتاتے ہوئے
پکارتے ہیں انہیں ساحلوں کے سناٹے
جو لوگ ڈوب گئے کشتیاں بناتے ہوئے
پھر اس نے مجھ سے کسی بات کو چھپایا نہیں
وہ کھل گیا تھا کسی بات کو چھپاتے ہوئے
مجھی میں تھا وہ ستارہ صفت کہ جس کے لیے
میں تھک گیا ہوں زمانے کی خاک اڑاتے ہوئے
مزاروں اور منڈیروں کے رت جگوں میں سلیمؔ
بدن پگھلنے لگے ہیں دیے جلاتے ہوئے