چراغ یاد کی لو ہم سفر کہاں تک ہے
Saleem Kausarچراغ یاد کی لو ہم سفر کہاں تک ہے
یہ روشنی مری دہلیز پر کہاں تک ہے
بس ایک تم تھے کہ جو دل کا حال جانتے تھے
سو اب تمہیں بھی ہماری خبر کہاں تک ہے
مسافران جنوں گرد ہو گئے لیکن
کھلا نہیں کہ تری رہ گزر کہاں تک ہے
ہر ایک لمحہ بدلتی ہوئی کہانی میں
حکایت غم دل معتبر کہاں تک ہے
زمیں کی آخری حد پر پہنچ کے سوچتا ہوں
یہاں سے موسم دیوار و در کہاں تک ہے
بچھڑنے والوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا
تو ہم سفر ہے مگر ہم سفر کہاں تک ہے
عجیب لوگ ہیں آزادیوں کے مارے ہوئے
قفس میں پوچھتے پھرتے ہیں گھر کہاں تک ہے