کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے

Saleem Kausar

کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے

تو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے

اگر ہم واقعی کم حوصلہ ہوتے محبت میں

مرض بڑھنے سے پہلے ہی دوا تبدیل کر لیتے

تمہارے ساتھ چلنے پر جو دل راضی نہیں ہوتا

بہت پہلے ہم اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے

تمہیں ان موسموں کی کیا خبر ملتی اگر ہم بھی

گھٹن کے خوف سے آب و ہوا تبدیل کر لیتے

تمہاری طرح جینے کا ہنر آتا تو پھر شاید

مکان اپنا وہی رکھتے پتا تبدیل کر لیتے

وہی کردار ہیں تازہ کہانی میں جو پہلے بھی

کبھی چہرہ کبھی اپنی قبا تبدیل کر لیتے

جدائی بھی نہ ہوتی زندگی بھی سہل ہو جاتی

جو ہم اک دوسرے سے مسئلہ تبدیل کر لیتے

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہم بول اٹھے ورنہ

گواہی دینے والے واقعہ تبدیل کر لیتے

بہت دھندلا گیا یادوں کی رم جھم میں دل سادہ

وہ مل جاتا تو ہم یہ آئینہ تبدیل کر لیتے