سراسر نفع تھا لیکن خسارہ جا رہا ہے
Saleem Kausarسراسر نفع تھا لیکن خسارہ جا رہا ہے
تو کیا جیتی ہوئی بازی کو ہارا جا رہا ہے
سفر آغاز کرنا تھا جہاں سے زندگی کا
ہمیں ان راستوں سے اب گزارا جا رہا ہے
یہ کن کے پاس گروی رکھ دیا ہم نے سمندر
یہ کن لوگوں کو ساحل پر اتارا جا رہا ہے
اسے جو بھی ملا بچ کر نہیں آیا ابھی تک
مگر جو بچ گیا ملنے دوبارہ جا رہا ہے
سلیمؔ اک آخری مضمون باقی تھا کہ چھپنے
مری رسوائی کا تازہ شمارہ جا رہا ہے