اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں

Saleem Kausar

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں

جو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیں

راستے کب گرد ہو جاتے ہیں اور منزل سراب

ہر مسافر پر طلسم رہ گزر کھلتا نہیں

دیکھنے والے تغافل کار فرما ہے ابھی

وہ دریچہ کھل گیا حسن نظر کھلتا نہیں

جانے کیوں تیری طرف سے دل کو دھڑکا ہی رہا

اس تکلف سے تو کوئی نامہ بر کھلتا نہیں

انتظار اور دستکوں کے درمیاں کٹتی ہے عمر

اتنی آسانی سے تو باب ہنر کھلتا نہیں

ہم بھی اس کے ساتھ گردش میں ہیں برسوں سے سلیمؔ

جو ستارہ ساتھ رہتا ہے مگر کھلتا نہیں