کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ
Saleem Kausarکس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ
چشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ
کب سے راہوں میں تری گرد بنے بیٹھے ہیں
تجھ سے ملنے کے لیے وقت کو ٹالے ہوئے لوگ
کہیں آنکھوں سے چھلکنے نہیں دیتے تجھ کو
کیسے پھرتے ہیں ترے خواب سنبھالے ہوئے لوگ
دامن صبح میں گرتے ہوئے تاروں کی طرح
جل رہے ہیں تری قربت کے اجالے ہوئے لوگ
یا تجھے رکھتے ہیں یا پھر تری خواہش دل میں
ایسے دنیا میں کہاں چاہنے والے ہوئے لوگ