ڈوبنے والے بھی تنہا تھے تنہا دیکھنے والے تھے
Saleem Kausarڈوبنے والے بھی تنہا تھے تنہا دیکھنے والے تھے
جیسے اب کے چڑھے ہوئے تھے دریا دیکھنے والے تھے
آج تو شام ہی سے آنکھوں میں نیند نے خیمے گاڑ دیئے
ہم تو دن نکلے تک تیرا رستہ دیکھنے والے تھے
اک دستک کی رم جھم نے اندیشوں کے در کھول دیئے
رات اگر ہم سو جاتے تو سپنا دیکھنے والے تھے
ایک سوار کی سج دھج کو رستوں کی وحشت نگل گئی
ورنہ اس تہوار پہ ہم بھی میلہ دیکھنے والے تھے
میں نے جس صف کو چھوڑا ہے اس میں شامل سارے لوگ
اپنے قد کو بھول کے اپنا سایا دیکھنے والے تھے
میں پانی اور آگ سے اک مٹی کی خاطر لوٹا تھا
اور یہ دونوں عالم کھیل تماشا دیکھنے والے تھے
اب آئینہ حیرت سے اک اک کا منہ تکتا ہے سلیمؔ
پہلے لوگ تو آئینے میں چہرہ دیکھنے والے تھے