ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا

Saleem Kausar

ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا

مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہے

کہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا

بھلا وہ حسن کس کی دسترس میں آ سکا ہے

کہ ساری عمر بھی لکھیں مقالہ کم رہے گا

بہت سے دکھ تو ایسے بھی دیے تم نے کہ جن کا

مداوا ہو نہیں سکتا ازالہ کم رہے گا

وہ چاندی کا ہو سونے کا ہو یا پھر ہو لہو کا

سلیمؔ اہل ہوس کو ہر نوالہ کم رہے گا