مہلت نہ ملی خواب کی تعبیر اٹھاتے

Saleem Kausar

مہلت نہ ملی خواب کی تعبیر اٹھاتے

ہم مارے گئے ٹوٹے ہوئے تیر اٹھاتے

مامور تھیں سورج کی گواہی پہ ہوائیں

پھر سائے کہاں دھوپ کی جاگیر اٹھاتے

تجھ تک بھی پہنچنے کے لیے وقت نہیں تھا

کب دولت دنیا ترے رہگیر اٹھاتے

بس ایک ہی خواہش سر مقتل ہمیں یاد آئی

زنداں سے نکلتے ہوئے زنجیر اٹھاتے

اس وقت بھی ہاتھوں نے قلم کو نہیں چھوڑا

جب ان پہ ضروری تھا کہ شمشیر اٹھاتے

ہم لوگ سلیمؔ اصل سے کٹ کر نہیں جیتے

کیا سوچ کے آخر کوئی تصویر اٹھاتے