کبھی موسم ساتھ نہیں دیتے کبھی بیل منڈیر نہیں چڑھتی

Saleem Kausar

کبھی موسم ساتھ نہیں دیتے کبھی بیل منڈیر نہیں چڑھتی

لیکن یہاں وقت بدلنے میں ایسی کوئی دیر نہیں لگتی

کہیں اندر بزم سجائے ہوئے کہیں باہر خود کو چھپائے ہوئے

ترے ذکر کا کام نہیں رکتا تری یاد کی عمر نہیں ڈھلتی

اک خواب نما تمثیل کا دھندلا عکس ہے آئینہ خانے میں

وہ حسن دکھائی نہیں دیتا اور پھر بھی نگاہ نہیں ہٹتی

کئی صدیاں بیت گئیں مجھ میں ترے قرب کی بے لذت رت میں

مرا جسم نماز کا عادی ہے مری روح نماز نہیں پڑھتی