Poetry
Poet
Meter
- کبھی ملیں گے تو یہ قرض بھی اتاریں گےتمہارے چہرے کو پیروں تلک نہاریں گےVikram Gaur Vairagi
- صرف شکوے دکھ رہے ہیں یہ نہیں دکھتا تجھےتجھ سے شکوے رکھنے والا تیرا دیوانہ بھی ہےVikram Gaur Vairagi
- میں ابھی ہنستا اٹھوں اور چہکنے لگ جاؤںپر یہ مشکل ہے مرا یار نہیں مان رہاVikram Gaur Vairagi
- آپ اپنا نشاں نہیں معلوملٹ گئے ہم کہاں نہیں معلومYaqoob Ali Aasi
- داغہائے دل کی تابانی گئیان کے جلووں کی فراوانی گئیYaqoob Ali Aasi
- یہ ہم نے مانا کہ ہوگا وصال یار نصیبدل حزیں کو مگر ہے کہاں قرار نصیبYaqoob Ali Aasi
- تھا اس کا جیسا عمل وہ ہی یار میں بھی کروںردائے وقت کو کیا داغدار میں بھی کروںYaqoob Arif
- نہ چارہ گر نہ مسیحا نہ راہبر تھا میںنظر میں پھر بھی زمانے کی معتبر تھا میںYaqoob Arif
- وہ راہبر تو نہیں تھا اعادہ کیا کرتابنا کے راہ میں وہ کوئی جادہ کیا کرتاYaqoob Arif
- جیب و گریباں ٹکڑے ٹکڑے دامن کو بھی تار کیاکیسے کیسے ہم نے اپنی وحشت کا اظہار کیاZafar Anwar
- زہر غم دل میں سمونے بھی نہیں دیتا ہےکرب احساس کو کھونے بھی نہیں دیتا ہےZafar Anwar
- سر میں سودا بھی وہی کوچۂ قاتل بھی وہیرقص بسمل بھی وہی شور سلاسل بھی وہیZafar Anwar
- اب درد بے دیار ہے اور جگ ہنسائی ہےاس عشق نے بھی کیسی جواں موت پائی ہےZaheer Fatehpuri
- جمال پا کے تب و تاب غم یگانہ ہوا ہےمرے لیے یہ زر گل چراغ خانہ ہوا ہےZaheer Fatehpuri
- درد ان دنوں یوں چہرۂ عالم پہ سجا ہےہر شخص نے جیسے مرا غم بانٹ لیا ہےZaheer Fatehpuri
- پانی جگ مگ کرتا جائےسورج اس میں ڈوبا جائےAamina Azfar
- یہ جو ڈھل رہا ہے سورجکہاں جا رہا ہے سورجAamina Azfar
- راہ پر خار ہے کیا ہونا ہےپاؤں افگار ہے کیا ہونا ہےاحمد رضا خان
- لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جاناجگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانااحمد رضا خان
- سرد مہری سے تری دل جو تپاں رکھتے ہیںہمہ تن برف ہیں آہوں میں دھواں رکھتے ہیںاشک رامپوری
- محتسب نے جو نکالا ہمیں میخانے سےدور تک آنکھ ملاتے گئے پیمانے سےاشک رامپوری
- خواہشیں دنیا کی بار دوش و گردن ہو گئیںرفتہ رفتہ منزل عقبیٰ کی رہزن ہو گئیںاوج لکھنوی
- چار سو عالم امکاں میں اندھیرا دیکھاتو جدھر ہے اسی جانب کو اجالا دیکھااوج لکھنوی
- جس کے ہاتھوں میں ہوا تھا سنگریزوں کا شکارآج وہ بھی ہو گیا اپنے گناہوں کا شکارBadrul Hasan Badar
- یہ سڑی لاشوں کی بدبو اور یہ شعلوں کا رقصہے زمیں پر آج کس کی حکمرانی کیا لکھوںBadrul Hasan Badar
- جنوں کا پاؤں پکڑ کر خرد بہت روئیتری گلی سے جو صحرا کی راہ لی میں نےBahauddin Kaleem
- یہ تری مست نگاہی یہ فروغ مے و جامآج ساقی ترے رندوں سے ادب مشکل ہےBahauddin Kaleem
- تو اگر چارہ ساز ہو جائےدرد بھی دل نواز ہو جائےBal Krishn
- خاک دہرائے داستاں کوئیبات سنتا ہے کب کہاں کوئیBal Krishn
- کہاں سے منظر سمیٹ لائے نظر کہاں سے ادھار مانگےروایتوں کو نہ موت آئے تو زندگی انتشار مانگےBalraj Bakshi
- کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھاوہ چاہتا تو میں دانستہ ہار سکتا تھاBalraj Bakshi
- ترا کشتہ اٹھایا اقربا نےچلے محشر کو مٹی میں دبانےبیان یزدانی
- جھونکے آتے ہیں بوئے الفت کےپھول یا رب ہیں کس کی تربت کےبیان یزدانی
- باب رحمت پہ دعا گریہ کناں ہو جیسےگمشدہ بیٹے کی مضطر کوئی ماں ہو جیسےDaem Gawwasi
- چہرے پہ نور صبح سیہ گیسوؤں میں راتاتری تھی اک پری لئے اپنے پروں میں راتDaem Gawwasi
- آزادئ خیال کی وسعت کو دیکھیےرہ کر زمیں پہ کرتے ہیں بات آسماں سے ہمEhqar Jhanswi
- اذاں سے نعرۂ ناقوس پیدا ہو نہیں سکتاابھی کچھ روز تک کعبہ کلیسا ہو نہیں سکتاEhqar Jhanswi
- ایسی ہی زمیں بنا رہا تھاپر اور کہیں بنا رہا تھاEhsan Asghar
- چمکتے سورج اچھالتے تھے کہاں گئے وہجو شامیں صبحوں میں ڈھالتے تھے کہاں گئے وہEhsan Asghar
- زیاں ہی ہے زیاں ہم سے نہ پوچھویہ غیروں کی زباں ہم سے نہ پوچھوEhsan Sehgal
- مواقع عشق کے وہ اب کہاں ہیںادائیں یار کی درد زباں ہیںEhsan Sehgal
- دست شفقت کٹا اور ہوا میں معلق ہواآنکھ جھپکی تو پلکوں پہ ٹھہری ہوئی خواہشیں دھول میں اٹ گئیںEjaz Rizvi
- مالک میرےبھاری پتھر ڈھونے والےEjaz Rizvi
- لاکھ بہکائے یہ دنیا ہو گیا تو ہو گیادل سے جو اک بار میرا ہو گیا تو ہو گیاFaiz Alam Babar
- معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیںمجھ کو اک آزار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیںFaiz Alam Babar
- اے دل آرام میں جدھر جاؤںدل کوں تیریچ پاس دھر جاؤںGawwasi Bedri
- پلا مد مست اے ساقی کہ منج عادت ہے پینے کاہو سر خوش دور یکدھرتے کروں گا زنگ سینے کاGawwasi Bedri
- تری نگاہ کا چبھتا ہوا سوال مجھےکہیں نہ غم کے سمندر میں دے اچھال مجھےHabeeb Ahmar
- ڈھونڈنے نکلے تھے اپنا نام کس ارمان سےہم صداؤں کے نگر میں رہ گئے انجان سےHabeeb Ahmar
- ہر طرف تیرا آئنہ دیکھاحسن قدرت کا بے بہا دیکھاIffat Faridi