درد ان دنوں یوں چہرۂ عالم پہ سجا ہے
Zaheer Fatehpuriدرد ان دنوں یوں چہرۂ عالم پہ سجا ہے
ہر شخص نے جیسے مرا غم بانٹ لیا ہے
ہر آن ترے تن میں وہ جادو سا رچا ہے
جو وصل کا لمحہ ہے وہ صحرا کی گھٹا ہے
اک عمر کے بعد آج یکایک جو ملے ہو
وہ سیل مسرت ہے کہ دل ڈوب گیا ہے
وہ بات جو سن پاؤ تو پہروں تمہیں تڑپائے
اک لمحے کی تنہائی نے جو مجھ سے کہا ہے
ہو دوست کہ دل کوئی چھپائے نہیں چھپتا
ہر چوٹ کے پہلو میں اک آئینہ لگا ہے
جنگل تھے جنوں خیز ہوئے شہر بھی ویراں
سناٹے میں ہر قریۂ دل جاگ گیا ہے
کیا کس سے گلا کیجیئے خود ہم نہیں اپنے
دنیا کا ظہیرؔ ان دنوں کیا حال ہوا ہے