چہرے پہ نور صبح سیہ گیسوؤں میں رات
Daem Gawwasiچہرے پہ نور صبح سیہ گیسوؤں میں رات
اتری تھی اک پری لئے اپنے پروں میں رات
دن تو شکم کی آگ بجھانے میں جائے ہے
شکر خدا کہ کٹتی ہے دانشوروں میں رات
تھی وجہ خواب کل یہی تسکین قلب بھی
ہم کو تو اب ڈرانے لگی زلزلوں میں رات
ہر صاحب کمال ہے فن کے عروج پر
قبلہ نما رہی ہے سبھی حادثوں میں رات
آنکھوں میں ان کا حسن تھا سوتا میں کس طرح
آئی تھی گرچہ گھر مرے کتنے دنوں میں رات
آوارگی کی چھاپ وہ آئی تھی چھوڑنے
شرمندہ ہو کے لوٹ گئی دل جلوں میں رات
کچھ دیر ہاؤ ہو کا تھا منظر شباب پر
دن کی تھکی تھی سو ہی گئی مندروں میں رات
ہم تھے کہ غرق جام رہے میکشوں کے بیچ
ہم کو تلاش کرتی رہی عابدوں میں رات
جگنو چمک رہے تھے اجالے میں عشق کے
دائمؔ قیام کرتی کہاں بزدلوں میں رات