تو اگر چارہ ساز ہو جائے

Bal Krishn

تو اگر چارہ ساز ہو جائے

درد بھی دل نواز ہو جائے

خود نمائی کا گر نہ ہو سودا

ہر حسیں ایک راز ہو جائے

کچھ گناہوں میں ہے کشش ورنہ

آدمی پاکباز ہو جائے

حسن ہو جائے بے سر و ساماں

عشق اگر بے نیاز ہو جائے

ہم بہر طور خوش ہیں جینے سے

عمر غم ہی دراز ہو جائے