باب رحمت پہ دعا گریہ کناں ہو جیسے
Daem Gawwasiباب رحمت پہ دعا گریہ کناں ہو جیسے
گمشدہ بیٹے کی مضطر کوئی ماں ہو جیسے
اس کی ممتاز کی روداد محبت لکھ دوں
ایسے کہتا ہے کوئی شاہ جہاں ہو جیسے
گفتگو میں وہ حلاوت وہ عمل میں اخلاص
اس کی ہستی پہ فرشتے کا گماں ہو جیسے
اس کی دزدیدہ نگاہی کے ہیں سب ہی گھائل
کوئی صیاد لئے تیر و کماں ہو جیسے
مجھ کو اردوئے معلیٰ نہیں آتی اب تک
تجھ کو یہ زعم ترے گھر کی زباں ہو جیسے
ہم کو رکھتی ہے نشانے پہ سیاست ان کی
گھر جلانے پہ بضد برق تپاں ہو جیسے
اس کے آتے ہی صنم خانوں کے بت بول اٹھے
مشرقوں میں کوئی اعجاز بیاں ہو جیسے
یوں تری زلف کی خوشبو ہے سر شام اڑی
کشتیٔ فکر یم فن میں رواں ہو جیسے
تیرے اشعار اتر آتے ہیں دائمؔ دل میں
حق پرستوں کے لئے صوت اذاں ہو جیسے