وہ راہبر تو نہیں تھا اعادہ کیا کرتا
Yaqoob Arifوہ راہبر تو نہیں تھا اعادہ کیا کرتا
بنا کے راہ میں وہ کوئی جادہ کیا کرتا
نہا رہا ہو اجالوں کے جو سمندر میں
وہ لے کے ظلمت شب کا لبادہ کیا کرتا
ہر ایک شخص جہاں مصلحت سے ملتا ہو
وہاں کسی سے کوئی استفادہ کیا کرتا
نہ جس میں رنگ نہ خاکہ نہ کوئی عکس جمال
بنا کے ایسی میں تصویر سادہ کیا کرتا
محاذ جنگ میں وہ اپنے فرض کی خاطر
نہ دیتا جان تو آخر پیادہ کیا کرتا
جہاں پہ ہوتا ہو انسانیت کا خوں عارفؔ
میں ایسی دنیا میں رہ کر زیادہ کیا کرتا