تری نگاہ کا چبھتا ہوا سوال مجھے

Habeeb Ahmar

تری نگاہ کا چبھتا ہوا سوال مجھے

کہیں نہ غم کے سمندر میں دے اچھال مجھے

میں ایک لمحۂ کمزور کے حصار میں ہوں

شکستگی نہ کہیں کر دے پائمال مجھے

بکھرنے والا ہوں موسم کی گرم سانسوں سے

نہال سبز تو باہوں میں اب سنبھال مجھے

میں ایک قطرۂ شبنم مرا وجود ہی کیا

کرن کی نوک ہی کر دے گی پائمال مجھے

شجر سے برگ گل زرد نے کہا احمرؔ

کرم ترا کہ تو سمجھے شریک حال مجھے