ڈھونڈنے نکلے تھے اپنا نام کس ارمان سے
Habeeb Ahmarڈھونڈنے نکلے تھے اپنا نام کس ارمان سے
ہم صداؤں کے نگر میں رہ گئے انجان سے
انگلیاں یادوں کی تھامے ہم گزرتے ہی گئے
راستے میں موڑ ملتے ہی گئے سنسان سے
دے رہا ہوں عمر کے حاصل کو افسانے کا روپ
ٹوٹتے لمحے بکھرتی ریت کے عنوان سے
دوستوں نے شہ بھی دی ہشیار تھے ہم بھی مگر
فیل گھوڑے پٹ گئے پھر بھی رہے انجان سے
وقت کی جب دھوپ احمرؔ چڑھ گئی دیوار پر
اپنا سایہ دیکھ کے ہم رہ گئے حیران سے