مواقع عشق کے وہ اب کہاں ہیں
Ehsan Sehgalمواقع عشق کے وہ اب کہاں ہیں
ادائیں یار کی درد زباں ہیں
نہیں بنتی ہے آپس میں کوئی بات
ہمارے درمیاں کچھ تلخیاں ہیں
ہمیں ملنے نہیں اب کوئی آتا
مقدر میں یہی تنہائیاں ہیں
ہیں یہ بھی ایک حصہ زندگی کا
ادھر دکھ ہیں ادھر شہنائیاں ہیں
پلٹ کر جا نہیں سکتے وطن میں
ہماری راہ میں بربادیاں ہیں
نہ جاؤ خود ہمیں پڑھ لو سبق لو
ہمی مغرب زدوں کی داستاں ہیں
نہ کھلواؤ مرا منہ انجمن میں
مرے دل میں کئی باتیں نہاں ہیں
وفا بڑھتی ہے جن رشتوں سے اے دوست
وہی رشتے ہمارے درمیاں ہیں
نظر آتا نہیں سچائی کا لفظ
یہ کیسے رہنماؤں کے بیاں ہیں