داغہائے دل کی تابانی گئی
Yaqoob Ali Aasiداغہائے دل کی تابانی گئی
ان کے جلووں کی فراوانی گئی
آشنا نا آشنا سے ہو گئے
اپنی صورت بھی نہ پہچانی گئی
ایک دل میں سیکڑوں غم کا ہجوم
پھر بھی اس گھر کی نہ ویرانی گئی
اب کہاں وہ جذبۂ مہر و وفا
آدمی سے خوئے انسانی گئی
آئینے میں وقت کے اے ہم نفس
دوستوں کی شکل پہچانی گئی
رہ گئے ہوش و خرد کے فلسفے
جستجو تا حد امکانی گئی
میرؔ و غالبؔ وحشتؔ و داغؔ و جگرؔ
کیا گئے آسیؔ غزل خوانی گئی