پلا مد مست اے ساقی کہ منج عادت ہے پینے کا

Gawwasi Bedri

پلا مد مست اے ساقی کہ منج عادت ہے پینے کا

ہو سر خوش دور یکدھرتے کروں گا زنگ سینے کا

بچن میری زباں کے آج تارے ہو نہ کیوں جھمکیں

کہ ہے یوں چرخ زنگاری ورق میرے سفینے کا

زمانے آج کے میں وو نگینہ بے بدل ہوں جو

سلیماں باج قیمت کوئی نہ دیوے منج نگینے کا

میرا جیو پیو ہے اس جیوں کوں بسروں کیوں

کدھی بسروں تو مرجاؤں نہ پاوں ذوق جینے کا

پدک ہے عین میرا نظم چندر سور کے گل کا

جڑت ہے عین میرا شعر خوباں کے زرینے کا

جکوئی عرفان کے صاحب سچے ہیں سوکتے ہیں یوں

کہ یاں تو کوئی نئیں دستا غواصیؔ کے قرینے کا