اب درد بے دیار ہے اور جگ ہنسائی ہے

Zaheer Fatehpuri

اب درد بے دیار ہے اور جگ ہنسائی ہے

اس عشق نے بھی کیسی جواں موت پائی ہے

بادل ہیں دل کے دل کوئی روزن کہیں نہیں

اب چھاؤنی غموں نے فلک پر بھی چھائی ہے

رخصت کے بعد تیرے سراپے سے ماورا

یہ کون سی ادا ہے جو اب یاد آئی ہے

آئی جو سر پہ دھوپ لگے خیمۂ خیال

تم ہو جبھی تو وقت کو یوں نیند آئی ہے

چپ ہو گیا ہے دل سا فسانہ نگار بھی

تنہائی اک رہی تھی سو وہ بھی پرائی ہے

کیا اب کبھی جنوں کا بلاوا نہ آئے گا

صحرا کی خاک اڑ کے خیاباں میں آئی ہے

جو گزرے غم کو خود میں سموئے رہیں گے ہم

ہم نے ظہیرؔ جینے کی سوگند کھائی ہے