نہ چارہ گر نہ مسیحا نہ راہبر تھا میں

Yaqoob Arif

نہ چارہ گر نہ مسیحا نہ راہبر تھا میں

نظر میں پھر بھی زمانے کی معتبر تھا میں

انا پہ حرف نہ آ جائے حق پرستوں کی

اٹھائے اپنے ہی نیزے پہ اپنا سر تھا میں

سوال یہ نہیں کس نے کیا تھا قتل مجھے

سوال یہ ہے کہ کیوں خود سے بے خبر تھا میں

جو صبح نو کا اسیری میں دے رہا تھا پیام

وہ انقلاب زمانہ کا نامہ بر تھا میں

سکون دل بھی ملا آبلوں کی لذت بھی

تمہارے ساتھ سفر میں جو ہم سفر تھا میں

ہوئے تھے پست ہواؤں کے حوصلے عارفؔ

جب اپنے کھولے فضاؤں میں بال و پر تھا میں