یہ ہم نے مانا کہ ہوگا وصال یار نصیب
Yaqoob Ali Aasiیہ ہم نے مانا کہ ہوگا وصال یار نصیب
دل حزیں کو مگر ہے کہاں قرار نصیب
یہ اپنا اپنا مقدر ہے اور کیا کہیے
خزاں نصیب کوئی ہے کوئی بہار نصیب
کوئی تو ایک نظر کے لیے ترستا ہے
کسی کو ہوتا ہے دیدار بار بار نصیب
نہ آرزو تری کرتے نہ آبرو کھوتے
خود اپنے دل پہ اگر ہوتا اختیار نصیب
سنا تو ہے تیرا دیدار ایک دن ہوگا
اسی امید پہ بیٹھے ہیں انتظار نصیب
سمجھ سکے گا وہ کیا میرے دل کی بیتابی
ہوا نہ جس کو کبھی سوز عشق یار نصیب
جہاں میں اور بھی آسیؔ الم کے مارے ہیں
یہاں پہ تو ہی نہیں ایک سوگوار نصیب