لاکھ بہکائے یہ دنیا ہو گیا تو ہو گیا

Faiz Alam Babar

لاکھ بہکائے یہ دنیا ہو گیا تو ہو گیا

دل سے جو اک بار میرا ہو گیا تو ہو گیا

کیوں ندامت ہو مجھے لا اختیاری فعل پر

میں تری نظروں میں رسوا ہو گیا تو ہو گیا

کم زیادہ ہو تو سکتا ہے مگر چھٹتا نہیں

جس کو جو اک بار نشہ ہو گیا تو ہو گیا

دل بہت روتا ہے لیکن اس بت مغرور سے

منقطع ہر ایک رشتہ ہو گیا تو ہو گیا

منتقل ہوتا ہے لیکن وہ کبھی مرتا نہیں

جو صدائے کن سے پیدا ہو گیا تو ہو گیا

اپنی مرضی سے یہاں دن کاٹنے کے جرم میں

میں اگر دنیا میں تنہا ہو گیا تو ہو گیا

دیکھتا ہے کون بابرؔ کس کا کیا کردار ہے

جس سے جو منسوب قصہ ہو گیا تو ہو گیا