تھا اس کا جیسا عمل وہ ہی یار میں بھی کروں

Yaqoob Arif

تھا اس کا جیسا عمل وہ ہی یار میں بھی کروں

ردائے وقت کو کیا داغدار میں بھی کروں

معاف مجھ کو نہ کرنا کسی بھی صورت سے

زمانے تجھ کو اگر اشک بار میں بھی کروں

ملے جو مجھ کو بھی فرصت غم زمانہ سے

کسی کے سامنے ذکر بہار میں بھی کروں

جو ڈالے رہتے ہیں چہروں پہ مصلحت کی نقاب

کیا ایسے لوگوں میں تیرا شمار میں بھی کروں

خدا کرے کہ تجھے وہ مقام بھی ہو نصیب

جہاں پہنچ کے ترا اعتبار میں بھی کروں

سلیقہ مجھ کو جو آ جائے شیر کہنے کا

کہ غزل میرؔ سے نقش و نگار میں بھی کروں