جس کے ہاتھوں میں ہوا تھا سنگریزوں کا شکار

Badrul Hasan Badar

جس کے ہاتھوں میں ہوا تھا سنگریزوں کا شکار

آج وہ بھی ہو گیا اپنے گناہوں کا شکار

اور کتنے دن مری نظروں کو تم دوگے فریب

اور کتنے دن رہوں گا میں طلسموں کا شکار

بد گماں جس سے رہا کرتی تھی سورج کی کرن

ہو گیا وہ پیڑ بھی کالی گھٹاؤں کا شکار

چل پڑے ہیں لوگ مجھ کو لے کے سولی کی طرف

آخرش میں ہو گیا اپنے اصولوں کا شکار

اپنی شہرت کا مجھے اس وقت اندازہ ہوا

شخصیت میری ہوئی جب نکتہ چینی کا شکار

سر کٹی لاشیں ملیں گی تم کو ہر اک موڑ پر

روشنی ہو جائے گی جس دم اندھیروں کا شکار

بدرؔ تیرا شکریہ کہ تو بھی میرے ساتھ ہے

میں اکیلا ہی نہیں جھوٹی امیدوں کا شکار