ہر طرف تیرا آئنہ دیکھا

Iffat Faridi

ہر طرف تیرا آئنہ دیکھا

حسن قدرت کا بے بہا دیکھا

اپنی آنکھوں میں وہ نظر آیا

ہم نے جب جب بھی آئنہ دیکھا

میرے احساس میں نہاں ہے تو

خواب میں تجھ کو جا بجا دیکھا

تھک گئی ہوں اکیلے چل چل کر

دل ہوا خوش جو قافلہ دیکھا

منتظر ہوں تری زمانے سے

اک دیا بن کے راستہ دیکھا

عشق کی انتہا پہ آ کر میں

سوچتی ہوں کہ تجھ میں کیا دیکھا