چمکتے سورج اچھالتے تھے کہاں گئے وہ
Ehsan Asgharچمکتے سورج اچھالتے تھے کہاں گئے وہ
جو شامیں صبحوں میں ڈھالتے تھے کہاں گئے وہ
بدن میں لرزش کہ دن ڈھلا جا رہا ہے پھر سے
جو دن سے گردش نکالتے تھے کہاں گئے وہ
ابھی تو ہاتھوں میں حدتیں ان کے ہاتھ کی ہیں
ابھی تو ہم کو سنبھالتے تھے کہاں گئے وہ
اتارتے تھے غبار لیل و نہار رخ سے
اور آئنوں کو اجالتے تھے کہاں گئے وہ
وہ شاخچے چھو کے سبز کرنے کے فن سے واقف
جو پھول ہاتھوں میں پالتے تھے کہاں گئے وہ
جو اسم پڑھتے تھے روشنی کا سیہ شبوں میں
جو لو چراغوں میں ڈالتے تھے کہاں گئے وہ