کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا
Balraj Bakshiکہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا
وہ چاہتا تو میں دانستہ ہار سکتا تھا
زمین پاؤں سے میرے لپٹ گئی ورنہ
میں آسمان سے تارے اتار سکتا تھا
جلا رہی ہیں جسے تیز دھوپ کی نظریں
وہ ابر باغ کی قسمت سنوار سکتا تھا
عجیب معجزہ کاری تھی اس کی باتوں میں
کہ وہ یقیں کے جزیرے ابھار سکتا تھا
مرے مکان میں دیوار ہے نہ دروازہ
مجھے تو کوئی بھی گھر سے پکار سکتا تھا
پر اطمینان تھیں اس کی رفاقتیں بلراجؔ
وہ آئنہ میں مجھے بھی اتار سکتا تھا