کبھی ملیں گے تو یہ قرض بھی اتاریں گے

Vikram Gaur Vairagi

کبھی ملیں گے تو یہ قرض بھی اتاریں گے

تمہارے چہرے کو پیروں تلک نہاریں گے

دوانے سر کو تری چوکھٹوں پہ ماریں گے

پر اپنا غصہ غزل پر نہیں اتاریں گے

بس ایک جان بچی ہے سو تجھ پہ واریں گے

ہم ایک جنگ تجھے جیتنے میں ہاریں گے

یہ کیا ستم کے کھلاڑی بدل دیا اس نے

ہم اس امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریں گے

اے میری جان انہیں سچ کا تو پتہ ہے مگر

یہ لوگ تیرے ہیں پتھر مجھی کو ماریں گے

ہمارے بعد ترے عشق میں نئے لڑکے

بدن تو چومیں گے زلفیں نہیں سنواریں گے