آپ اپنا نشاں نہیں معلوم

Yaqoob Ali Aasi

آپ اپنا نشاں نہیں معلوم

لٹ گئے ہم کہاں نہیں معلوم

لے چلا ہے جنون شوق کدھر

ہوگی منزل کہاں نہیں معلوم

دوڑتا ہوں غبار کے پیچھے

ہے کہاں کارواں نہیں معلوم

جھک گیا سر بصد خلوص و نیاز

کس کا ہے آستاں نہیں معلوم

ایک ہلچل ہے خانۂ دل میں

کون ہے میہماں نہیں معلوم

برق چمکی تھی ایک بار یہاں

کیا ہوا آشیاں نہیں معلوم

جانے کس کے خیال میں آسیؔ

ہو گئے گم کہاں نہیں معلوم