Poetry
Poet
Meter
- مجھ سے ملو تمباتوں کی چائے پرFaisal Rehan
- مجھے رنگوں سے محبت تھیزندگی کے کینوس پرFaisal Rehan
- مدار وقت سے اک جرعۂ نایاب لیتے ہیںیوں ہی جیتے چلے جاتے ہیں بس لمحوں کی دھڑکن میںFaisal Rehan
- آج انہیں دیکھ لیا بزم میں فرزانوں کیہم نے تعریف سنی تھی ترے دیوانوں کیHabab Tirmizi
- تمام رات بجھیں گے نہ میرے گھر کے چراغکہ یہ چراغ ہیں خون دل و جگر کے چراغHabab Tirmizi
- خوش نظر ہے نہ خوش خیال ہے یہآج کے دیدہ ور کا حال ہے یہHabab Tirmizi
- دشت غم میں سایۂ گیسو نہ ڈھونڈپتھروں میں درد کی خوشبو نہ ڈھونڈHabab Tirmizi
- مجھے پانیوں پہ رقم کروکہ مری بساط غبار ہےJabbar Jameel
- بے نام آوارہ پودوںآزردہ اشجارJabbar Jameel
- کچھ برس اس پار کا قصہ ہےدوستوں کی بزم میں اک دن بڑے دعوےJabbar Jameel
- وسیع جنگل ہے ایک جانب پہاڑوں کا سلسلہ چلا ہےشام آہستگی سے پیڑوں پہ کہنیاں ٹیکتی ہےJabbar Jameel
- سراغ مجھ سے ملے گا نہ رونق شب کاچراغ تو ہوں مگر بجھ چکا ہوں میں کب کاJai Prakash Ghafil
- کنار دریا جنون طوفاں ہر ایک گوہر کی آب میں ہوںبغیر میرے سبھی ہیں پانی کہ موجوں کا اضطراب میں ہوںJai Prakash Ghafil
- میں تیرے پاس ہوں مجھ سے یہ کہہ رہا کوئی ہےتمام شب مری آنکھوں میں جاگتا کوئی ہےJai Prakash Ghafil
- ہے نوک خار میں کچھ وہ تو سبزہ زار میں کچھخزاں میں کچھ ہے مگر موسم بہار میں کچھJai Prakash Ghafil
- اگرچہ حادثے گزرے ہیں پانیوں کی طرحخموش رہ گئے ہم لوگ ساحلوں کی طرحKaif Ansari
- تیرے حسین جسم کی پھولوں میں باس ہےگو وہم ہے یہ وہم قرین قیاس ہےKaif Ansari
- جب بھی ڈوبے ہوئے سورج نے ابھرنا چاہاشہر والوں نے بھی گلیوں میں بکھرنا چاہاKaif Ansari
- چاند ابھرا نہ مرے جسم سے سایا نکلاشام غم آئی تو میں گھر سے اکیلا نکلاKaif Ansari
- اک اک قدم پہ رکھی ہے یوں زندگی کی لاجغم کا بھی احترام کیا ہے خوشی کے ساتھKaifi Bilgrami
- مجھے چاک گریباں پر ہنسی آئی تو ہے لیکنمرے ہنسنے پہ ان کی آنکھ بھری آئی تو کیا ہوگاKaifi Bilgrami
- ہر قدم پر رہ محبت میںزندگی کا سوال آتا ہےKaifi Bilgrami
- ہم نے ارادہ ترک تمنا کا جب کیاتیرا خیال اے دل ناکام آ گیاKaifi Bilgrami
- ان کے رخ پر حجاب رہتا ہےجیسے مہ پر سحاب رہتا ہےLaiq Akbar sahaab
- دوستوں نے یہ گل کھلایا تھاہاتھ دشمن سے جا ملایا تھاLaiq Akbar sahaab
- دیکھا اسے، قمر مجھے اچھا نہیں لگاچھو کر اسے، گہر مجھے اچھا نہیں لگاLaiq Akbar sahaab
- نہیں تنہا نہیں ہوں میںتمہارے سحر کے دھاگوں نےLaiq Akbar sahaab
- حضرت دل جو کسی مس کے حوالے ہوتےجتنے گورے ہیں مقرر مرے سالے ہوتےماسٹر باسط بسوانی
- عدو کمبخت کو سودا ہے کچھ ایسا جدائی کالئے سر پر پھرا کرتا ہے ڈھانچہ چارپائی کاماسٹر باسط بسوانی
- ہاتھ آیا ہے ستم گر تو بڑی گھات کے بعدسب بتا دوں گا میں تجھ کو مگر اک بات کے بعدماسٹر باسط بسوانی
- ہم اپنی جان سے اے بت بہت بیزار بیٹھے ہیںبھری برسات میں آکر پس دیوار بیٹھے ہیںماسٹر باسط بسوانی
- کسانمیکش حیدرآبادی
- شاعرمیکش حیدرآبادی
- اندھامیکش حیدرآبادی
- بھوکے پیٹمیکش حیدرآبادی
- ادھر تو ہم جان کھو رہے ہیں ادھر وہ الفت سے رو رہے ہیںکدورتیں عمر بھر کی دل سے وہ آج اشکوں میں دھو رہے ہیںمیر محمد سلطان عاقل
- نہ زندہ نہ مردہ نہ دنیا نہ دیں کامجھے تو نے ظالم نہ رکھا کہیں کامیر محمد سلطان عاقل
- واعظ کے پاس جائیں گے ہم مے پیے ہوئےمدت ہوئی ہے توبہ سے توبہ کیے ہوئےمیر محمد سلطان عاقل
- یوں نہیں چین تو غفلت کا ستم اور سہیہم یہ سمجھیں گے کہ افزائش غم اور سہیمیر محمد سلطان عاقل
- بھاتی ہیں دل کو پیارے ناز و ادائیں تیریدل میں یہ آرزو ہے لے لوں بلائیں تیریمیراں شاہ جالندھری
- جب سے دلبر کا آستاں دیکھاتھا جو دشمن وہ مہرباں دیکھامیراں شاہ جالندھری
- جلوہ جب مجھ کو دکھایا یار نےوہم ہستی کا اٹھایا یار نےمیراں شاہ جالندھری
- صنم کے ہجر کا بیمار میں ہوںاسی کے عشق میں سرشار میں ہوںمیراں شاہ جالندھری
- مجھے خیال ہوا اور عدو کو خواب ہوانصیب پر نہ ہوا یہ کہ ایک عذاب ہوامرزا رحیم الدین حیا
- موت ہی چارہ ساز فرقت ہےرنج مرنے کا مجھ کو راحت ہےمرزا رحیم الدین حیا
- نہ رکھے جب کہ وہ بے باک لحاظکہئے عاشق کو رہے خاک لحاظمرزا رحیم الدین حیا
- ہم بھی دیکھیں گے کہ آنا ترا کیونکر نہ ہوایہ بھی اک کھیل ہوا فتنۂ محشر نہ ہوامرزا رحیم الدین حیا
- جو مزا اپنے یار میں دیکھانہ کہو وہ بہار میں دیکھاNaeem Dehlavi
- رات کیا اضطرار تھا کیا تھادل ترا بیقرار تھا کیا تھاNaeem Dehlavi
- ملتے ہی دل نے ہم کو گرفتار کر دیارسوائے شہر و کوچہ و بازار کر دیاNaeem Dehlavi