کنار دریا جنون طوفاں ہر ایک گوہر کی آب میں ہوں

Jai Prakash Ghafil

کنار دریا جنون طوفاں ہر ایک گوہر کی آب میں ہوں

بغیر میرے سبھی ہیں پانی کہ موجوں کا اضطراب میں ہوں

یہ وقت کا بے کراں سمندر میں اس کی حد تک پہنچ نہ پایا

گرا تھا ساحل پہ ٹوٹ کر جو ہوا تھا جو غرق آب میں ہوں

نہ جانے کیا ہے کہ میری ہستی کسی کی آنکھوں کا مے کدہ ہے

سبو بھی میں ہوں ہوں میں ہی ساقی ایاغ میں ہوں شراب میں ہوں

ترے کرم کی کرن نے مجھ کو اٹھایا پستی سے آسماں پر

کبھی یہ شک آفتاب میں ہوں کبھی گماں ماہتاب میں ہوں

جہاں نہیں تھا وہاں بھی میں تھا تو دیکھ کر بھی نہ دیکھ پایا

کلام بھی میں سکوت بھی میں سوال میں ہوں جواب میں ہوں

اسی نے ہر شب کی صبح کی ہے ہر اک دئے کی وہ روشنی ہے

کبھی مجسم بھی ہو کے کہہ دے کہ دیکھ تیرا ہی خواب میں ہوں