میں تیرے پاس ہوں مجھ سے یہ کہہ رہا کوئی ہے
Jai Prakash Ghafilمیں تیرے پاس ہوں مجھ سے یہ کہہ رہا کوئی ہے
تمام شب مری آنکھوں میں جاگتا کوئی ہے
دیا امید کا بجھتا ہے جلتی آنکھوں میں
کسی کے لب پہ مرے واسطے دعا کوئی ہے
پرانی باتوں کی یادیں بھکاریوں کی طرح
سوال کرتی ہیں ایوان دل پہ کیا کوئی ہے
گماں گزرتا ہے ہوتے ہوئے نہ ہونے کا
تری نگاہ میں جادو مگر نیا کوئی ہے
یہ خواب کا ہے سفر میں ہوں خواب رو کی طرح
نہ ابتدا ہی تھی کچھ اور نہ انتہا کوئی ہے
نہ وہ فضا نہ وہ چشمے نہ وادیاں نہ وہ لوگ
مگر یہ وہم مری راہ دیکھتا کوئی ہے
شکستہ دل تو اسے چھوڑ کر نہ جا غافلؔ
کہ تیرے ساز میں مضمر ابھی صدا کوئی ہے