ہے نوک خار میں کچھ وہ تو سبزہ زار میں کچھ

Jai Prakash Ghafil

ہے نوک خار میں کچھ وہ تو سبزہ زار میں کچھ

خزاں میں کچھ ہے مگر موسم بہار میں کچھ

گہر تھا ماہ تھا جگنو تھا یا ستارۂ شام

چمک رہا تھا تری چشم اشکبار میں کچھ

کہاں کے وہم و گماں کا ہے سلسلہ مری زیست

کہ اس کے پار ہی کچھ ہے نہ اس حصار میں کچھ

تمام عمر وہی مثل خار چبھتے رہے

گزر گئے تھے جو پل سایۂ بہار میں کچھ

پھر اس کے بعد ہے خود پر یقیں نہ دنیا پر

تھی ایسی بات ہی اک پل کے اعتبار میں کچھ

میں اس کی یاد سے دامن چھڑا لوں مجھ کو خیال

تب آیا جب نہ رہا میرے اختیار میں کچھ

نہ چاہتا وہ تو روشن نہ ہوتی کوئی بھی شے

ہے نور اس کا بھی کیا شام انتظار میں کچھ