تیرے حسین جسم کی پھولوں میں باس ہے
Kaif Ansariتیرے حسین جسم کی پھولوں میں باس ہے
گو وہم ہے یہ وہم قرین قیاس ہے
وہ اشک جس پہ چاندنی شب کا لباس ہے
شاید کتاب غم کا کوئی اقتباس ہے
میری طرح ہر اک کو ہے چاہت اسی کی پھر
گزرے دنوں کے زہر میں کتنی مٹھاس ہے
برسوں گزر گئے مگر اب تک نہیں بجھی
کتنی عجیب ریت کے ساحل کی پیاس ہے
میری صدا کھچ اس طرح آئی ہے لوٹ کر
محسوس ہو رہا ہے کوئی آس پاس ہے
بوندیں پڑیں تو اور زیادہ ہوئی تپش
شاید اسی کا نام زمیں کی بھڑاس ہے
اپنے گھروں میں خوش ہیں چراغوں کو لے کے لوگ
کس کو خبر کہ رات کا چہرہ اداس ہے
دھندلا سا زرد ماضی کا ہو جس طرح ورق
کتنا حسین آپ کا رنگ لباس ہے
کس وقت کیفؔ ٹوٹ کے گر جائے کیا خبر
پلکوں پہ ایک حلقۂ زنجیر یاس ہے