مدار وقت سے اک جرعۂ نایاب لیتے ہیں
Faisal Rehanمدار وقت سے اک جرعۂ نایاب لیتے ہیں
یوں ہی جیتے چلے جاتے ہیں بس لمحوں کی دھڑکن میں
خزاں کا گیت سنتے ہیں
بہار زندگانی میں
خمار رائیگانی میں
ہمارے پاؤں رستے ماپتے ہیں شہر و صحرا کے
مگر منزل نہیں ملتی
سفر تو جاری رہتا ہے
پھر آخر ایک دن جب وقت باگیں کھینچ لیتا ہے
تو کھلتا ہے
اسی بہتے ہوئے دریا میں اپنے خواب کا سونا بکھرنا ہے
ہمارے جسم کا سودا اسی مٹی سے ہونا ہے
فنا کا ذائقہ چکھتے ہوئے
اس قلزم ہستی میں ہم کو ڈوب جانا ہے
جسے جیون سمجھتے تھے سراسر ایک دھوکا ہے
یہی لمحہ بھبھوکا ہے