سراغ مجھ سے ملے گا نہ رونق شب کا
Jai Prakash Ghafilسراغ مجھ سے ملے گا نہ رونق شب کا
چراغ تو ہوں مگر بجھ چکا ہوں میں کب کا
کہوں زمین تو وہ آسماں سمجھتا ہے
کبھی کھلا ہی نہیں آدمی ہے کس ڈھب کا
عجیب ڈھنگ سے تھی جستجوئے زیست مجھے
پیالہ جیسے کوئی تشنہ گرمی لب کا
خیال یار کے پردے میں رنج دنیا تھا
سنا گیا ہے کچھ ایسا ہی قصہ ہم سب کا
اٹھے جو محفل دنیا سے تو ہوا معلوم
کہ داغ دار ہے دامن یہاں تو ہم سب کا
کیا ہے جس نے مجھے در بہ در وہ غافلؔ ہے
کہ میں ورق ہوں اسی عالم مرتب کا