رات کیا اضطرار تھا کیا تھا

Naeem Dehlavi

رات کیا اضطرار تھا کیا تھا

دل ترا بیقرار تھا کیا تھا

آج منکر ہے تو جو وعدہ سے

کل جو ہم سے قرار تھا کیا تھا

صبح کو تو جو ہم پہ برہم تھا

کیا تجھے کچھ خمار تھا کیا تھا

کل جو تو بیقرار تھا اے دل

وعدۂ وصل یار تھا کیا تھا

کیا ہوا اس نے کچھ کہا تھا نعیمؔ

یار تھا پھر ہزار تھا کیا تھا