جب بھی ڈوبے ہوئے سورج نے ابھرنا چاہا

Kaif Ansari

جب بھی ڈوبے ہوئے سورج نے ابھرنا چاہا

شہر والوں نے بھی گلیوں میں بکھرنا چاہا

آج کانٹوں سے الجھتا ہے گریباں اس کا

جس نے سبزے پہ کبھی پاؤں نہ دھرنا چاہا

ہو گئیں صورت دیوار ہوائیں حائل

جب کسی اشک نے دامن پہ اترنا چاہا

چاندنی‌ شب تھی کہ میں تھا کہ ہوا کے سائے

ہر کسی نے ترے کوچے میں ٹھہرنا چاہا

لے گیا کیفؔ صلیبوں کو اٹھا کر کوئی

غم کے ماروں نے کسی وقت جو مرنا چاہا