دشت غم میں سایۂ گیسو نہ ڈھونڈ
Habab Tirmiziدشت غم میں سایۂ گیسو نہ ڈھونڈ
پتھروں میں درد کی خوشبو نہ ڈھونڈ
زندگی میں اب وہ رنگ و بو نہ ڈھونڈ
گل ادا گل پیرہن گل رو نہ ڈھونڈ
اپنے ہونٹوں پر تبسم کر تلاش
وقت کے رخسار پر آنسو نہ ڈھونڈ
مستیوں میں رقص طاؤس اب کہاں
شوخیوں میں وہ رم آہو نہ ڈھونڈ
موجزن ہے دل میں جو طوفاں وہ دیکھ
خشک آنکھوں میں مری آنسو نہ ڈھونڈ
ہو سکے تو اس روایت کو نہ توڑ
میں تجھے ڈھونڈوں گا مجھ کو تو نہ ڈھونڈ
دشمنوں میں بھی محاسن کر تلاش
ہم نفس تنقیص کے پہلو نہ ڈھونڈ