وسیع جنگل ہے ایک جانب پہاڑوں کا سلسلہ چلا ہے

Jabbar Jameel

وسیع جنگل ہے ایک جانب پہاڑوں کا سلسلہ چلا ہے

شام آہستگی سے پیڑوں پہ کہنیاں ٹیکتی ہے

سورج کرن کرن اپنی روشنی رہن رکھ کے غربی دیار فلک سے

بادلوں کا لحاف لے کر

یک شبی نیند کے تصور میں اونگھتا ہے

خزاں رسیدہ انار کا اک شجر کھڑا ہے

میں جس کے نیچے

عہد و پیماں کے لعل یاقوت

اظہار و اقرار کے زمرد

کسی کو دیتا ہوں

اور لیتا ہوں

اور لفظوں کی اس تجارت پہ

اپنی نیند میں مسکرا رہا ہوں