ملتے ہی دل نے ہم کو گرفتار کر دیا

Naeem Dehlavi

ملتے ہی دل نے ہم کو گرفتار کر دیا

رسوائے شہر و کوچہ و بازار کر دیا

پیارے قسم لے لے ہو دوبارہ اگر نظر

ہاں یک نگاہ تم نے گنہ گار کر دیا

گو ہم ذلیل و خوار ہوئے خلق میں میاں

عالم کو آپ کا تو طلب گار کر دیا

کرنے لگی ہو اب جو مرے ساتھ یہ سلوک

شاید کسی نے تم کو خبردار کر دیا

جو کچھ سلوک ہم سے کرو تم بجا ہے یار

چوکے ہمیں جو تم کو نمودار کر دیا

جاتے ہی مدرسے میں کل اوس بت نے اے نعیمؔ

تسبیح شیخ رشتۂ زنار کر دیا