ہاتھ آیا ہے ستم گر تو بڑی گھات کے بعد

ماسٹر باسط بسوانی

ہاتھ آیا ہے ستم گر تو بڑی گھات کے بعد

سب بتا دوں گا میں تجھ کو مگر اک بات کے بعد

بوسۂ چشم طلب میں نے کیا رو رو کر

ہنس کے فرمایا کہ منظور ہے برسات کے بعد

ان سے کہتا ہوں سحر ہوتی ہے گھبراؤ نہیں

دل میں کہتا ہوں نہ ہو دن کبھی اس رات کے بعد

گلگلے شوخ کے منہ لگ گئے ملا کے ضرور

ہونٹ کیوں چاٹتا پھرتا ہے خدا رات کے بعد

آدمی ہے کہ ہے آسیب یہ کمبخت رقیب

کہہ دے آیا کرے گھر تیرے جمعرات کے بعد